31 اگست 2026 - 22:47
رسول اللہ الاعظم عالمی مفکرین کی نگاہ میں - 3

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی عظمت، اخلاق، قیادت اور تاریخی اثر و رسوخ، اسلامی متون کے ساتھ ساتھ، بہت سے غیر مسلم مورخین اور مفکرین کی تحسین اور خاص دلچسپی کا کا باعث رہا ہے۔۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گوکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسلمانوں کے نزدیک سید العالمین اور سید المرسلین ہیں مگر ان غیر مسلم دانشوروں نے بھی آپؐ کو تاریخ کے عظیم ترین راہنماؤں کے زمرے میں شمار کیا ہے؛ کچھ نے دین اور معاشرے دونوں میدانوں میں آپؐ کی بیک وقت کامیابی کو بے مثال قرار دیا ہے، اور دوسروں نے ایک بکھری ہوئی قوم کو امتِ واحدہ بنانے میں آپؐ کی صلاحیت اور انسانی تاریخ پر آپؐ کے پائیدار اثرات کا تذکرہ کیا ہے۔

تیسری قسط:

رسول اللہ الاعظم عالمی مفکرین کی نگاہ میں - 3

چودھویں صدی کے چین کے شہنشاہ "حکماء کے قائد" کی تعریف و تمجید کر رہے ہیں

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تعریف میں سب سے منفرد تاریخی دستاویزات میں سے ایک، وہ منظوم کلام ہے جو شہنشاہ ہونگ وو (Hongwu Emperor) سے منسوب ہے، جو منگ خاندان (Ming dynasty) کے بانی اور چین کے شہنشاہ تھے۔ (10)

اس منظوم کلام میں، 'عظیم حکیم'، 'حکماء کے قائد'، 'آسمانی کتاب کے حامل'، اور 'ایسی شخصیت جس کا راستہ زمانوں پر غالب آیا'، جیسے الفاظ سے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تعریف و تمجید کی گئی ہے۔ (11)

شہنشاہ ہونگ وو کے کلام کے آخر میں 'محمدؐ' کا نام مذکور ہے اور آپؐ کو ایک بلند مرتبہ انسان اور عاقل و دانا شخصیت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ (12)

قرون وسطیٰ کے چین کے ثقافتی میدان میں اس طرح کے متن کی موجودگی، عرب دنیا سے باہر، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شہرت اور احترام کی جغرافیائی حدود کی نشاندہی کرتی ہے۔

رسول اللہ الاعظم عالمی مفکرین کی نگاہ میں - 3

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)، زمین پر قدم رکھنے والوں میں عظیم ترین انسانوں میں سے ہیں، بارتھیلمی سینٹ ہیلیئر

فرانسیسی مفکر اور مصنف، بارتھیلمی سینٹ ہیلیئر (Barthelemy Saint Hilaire) نے اپنی تصنیف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور قرآن کے بارے میں لکھتے ہوئے، محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو 'انتہائی غیر معمولی عظیم انسانوں' اور 'زمین پر آنے والی عظیم ترین شخصیات' میں سے ایک قرار دیا ہے۔ (13)

بارتھیلمی سینٹ ہیلیئر کی یہ رائے، اسلام کے ظہور کے تاریخی پس منظر اور آپؐ کی دعوت کے بعد عرب معاشرے اور پھر دنیا کے بڑے حصے میں رونما ہونے والی وسیع تبدیلیوں کے تناظر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شخصیت کا جائزہ لینے کا نتیجہ ہے۔

رسول اللہ الاعظم عالمی مفکرین کی نگاہ میں - 3

فرانسیسی مؤرخ ـ ارنسٹ رینن ـ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اخلاق و کردار کے بارے میں بیان

فرانسیسی ادیب، فلسفی اور مورخ، ارنسٹ رینن (Ernest Renan) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذاتی خصوصیات کی توصیف میں آپؐ کی اخلاقی جہتوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔

وہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو ایک نیک، وفادار، بغض و کینہ سے دور، اور نیکی و سخاوت کی طرف مائل شخصیت کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ (14)

رینن کے بیان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا عام لوگوں، بچوں، خواتین اور معاشرے کے کمزور افراد کے ساتھ شائستہ برتاؤ کا تذکرہ ہؤا ہے۔ (15)

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی طرف مغربی دانشوروں کی توجہ کا ایک حصہ صرف آپؐ کی تاریخی کامیابیوں پر، بلکہ آپؐ کی ذاتی شخصیت اور اخلاقی خصوصیات پر مرکوز تھا۔

رسول اللہ الاعظم عالمی مفکرین کی نگاہ میں - 3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: سید محمد حسین راجی

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

حوالہ جات آخری [چوتھی] قسط میں ملاحظہ فرمائیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha